السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: من استحب أن يبتدئ بالتكبير خلف صلاة الصبح من يوم عرفة باب: جس نے یومِ عرفہ (نویں ذی الحجہ) کی فجر کی نماز کے بعد سے تکبیر شروع کرنے کو مستحب قرار دیا
فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَجَّاجِ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يُكَبِّرُ بَعْدَ ⦗٤٣٩⦘ صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ". كَذَا رَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَطَاءٍ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ يُنْكِرُهُ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ ذَاكَرْتُ بِهِ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ فَأَنْكَرَهُ، وَقَالَ: هَذَا وَهْمٌ مِنَ الْحَجَّاجِ، وَإِنَّمَا الْإِسْنَادُ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ فِي قُبَّتِهِ بِمِنًى. قَالَ الشَّيْخُ: وَالْمَشْهُورُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، وَلَوْ كَانَ عِنْدَ عَطَاءٍ عَنْ عُمَرَ هَذَا الَّذِي رَوَاهُ عَنْهُ الْحَجَّاجُ لَمَا اسْتجَازَ لِنَفْسِهِ خِلَافَ عُمَرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ أَنَّهُ حَكَاهُ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَهُوَ مُرْسَلٌ.(الف) عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عرفہ کے دن فجر کے بعد سے ایامِ تشریق کے آخری دن نمازِ ظہر تک تکبیریں کہتے تھے۔
یہ روایت حجاج بن ارطاۃ نے عطاء سے اسی طرح بیان کی ہے، اور یحییٰ بن سعید القطان اس کا انکار کرتے تھے اور فرماتے: یہ حجاج کا وہم ہے۔
(ب) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سند صرف اس بات کی ہے کہ وہ منیٰ کے اندر اپنے خیمہ میں تکبیر کہا کرتے تھے۔
(ج) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ قربانی کے دن نمازِ ظہر سے ایامِ تشریق کے آخری دن نمازِ عصر تک تکبیریں کہتے تھے۔ اگر عطاء کے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے وہ روایت ہوتی جو حجاج نے ان سے بیان کی ہے تو وہ اپنے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مخالفت جائز نہ سمجھتے، واللہ اعلم۔
ابو اسحاق سبیعی سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے اسے سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے نقل کیا، اور یہ مرسل ہے۔