السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: من قال: يكبر في الأضحى خلف صلاة الظهر من يوم النحر إلى أن يكبر خلف صلاة الصبح من آخر أيام التشريق، ثم يقطع استدلالا بأن أهل الأمصار تبع لأهل منى والحاج ذكره التلبية حتى يرمي جمرة العقبة يوم النحر ثم يكون ذكره التكبير باب: اس شخص کا قول کہ بقر عید میں یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کی ظہر کی نماز کے بعد سے ایامِ تشریق کے آخری دن کی فجر کی نماز کے بعد تک تکبیر کہے، پھر بند کر دے، اس دلیل کی بنا پر کہ شہروں کے لوگ اہلِ منیٰ کے تابع ہیں، اور حاجی کا ذکر تلبیہ ہے یہاں تک کہ وہ یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کر لے، پھر اس کا ذکر تکبیر ہے
حدیث نمبر: 6267
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ يُكَبِّرُ فِي قُبَّتِهِ بِمِنًى فَيَسْمَعُهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ فَيُكَبِّرُونَ، فَيَسْمَعُهُ أَهْلُ السُّوقِ فَيُكَبِّرُونَ، حَتَّى تَرْتَجَّ مِنًى تَكْبِيرًا وَاحِدًا ".حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منیٰ کے اندر اپنے خیمہ میں تکبیر کہتے، مسجد والے اس کو سنتے اور تکبیریں کہتے، ان کو بازار والے سنتے اور تکبیریں کہتے، یہاں تک کہ منیٰ تکبیروں سے گونج اٹھتا۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ ان تمام ایامِ (تشریق) میں نمازوں کے بعد تکبیر کہتے، خواہ بستر پر ہوتے، خیمے میں ہوتے، بیٹھے ہوتے یا چل رہے ہوتے۔