السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: الإمام يعلمهم في خطبة عيد الأضحى كيف ينحرون وأن على من نحر من قبل أن يجب وقت نحر الإمام أن يعيد باب: امام عید الاضحیٰ کے خطبے میں لوگوں کو سکھائے کہ وہ کس طرح قربانی کریں، اور یہ کہ جس نے امام کی قربانی کا وقت واجب ہونے سے پہلے قربانی کر لی اس پر اس کا دہرانا لازم ہے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحَى إِلَى الْبَقِيعِ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَبْدَأَ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ "، فَقَامَ خَالِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، قَالَ: " اذْبَحْهَا ثُمَّ لَا تُوَفِّي جَذَعَةٌ بَعْدَكَ ". قَالَ زُبَيْدٌ: فَسَمِعْتُ بَعْضَ أَصْحَابِنَا أَنَّهُ قَالَ: عَنَاقُ جَذَعَةٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ زُبَيْدٍ.سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی کے دن بقیع کی جانب آئے، آپ ﷺ نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”آج کے دن ہمارا پہلا کام یہ ہے کہ ہم نماز سے ابتدا کریں، پھر ہم قربانی کریں۔ جس نے ایسا کیا، اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے اس سے پہلے ذبح کر دیا تو وہ گوشت ہے، اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی کی ہے، قربانی نہیں۔“ میرے ماموں کھڑے ہو کر کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! میں نے قربانی ذبح کر دی ہے اور میرے پاس «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ ہے جو «مُسِنَّةٌ» ”مسنہ“ سے بہتر ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے ذبح کر لے، تیرے بعد کسی سے «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ کفایت نہ کرے گی۔“
زبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ ”بکری کا «جَذَعَةٌ» ”جذعہ““۔