حدیث نمبر: 625
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ، وَذَكَرَ حَدِيثَ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ الَّذِي يَذْكُرُ فِيهِ سَمَاعَ عُرْوَةَ مِنْ بُسْرَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: هَذَا مِمَّا يَدُلُّكَ أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ قَدْ حَفِظَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ، قَالَ عَلِيٌّ: فَحَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَقَدْ كَانَتْ صَحِبَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلَا يُصَلِّيَنَّ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عُرْوَةُ، وَسَأَلَ بُسْرَةَ فَصَدَّقَتْهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: كَانَ الشَّافِعِيُّ يُوجِبُ الْوُضُوءَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ اتِّبَاعًا لِخَبَرِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ لَا قِيَاسًا، وَبِقَوْلِ الشَّافِعِيِّ أَقُولُ؛ لِأَنَّ عُرْوَةَ قَدْ سَمِعَ حَدِيثَ بُسْرَةَ مِنْهَا، قَالَ الشَّيْخُ: وَبُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ، وَوَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ عَمُّهَا، وَهِيَ زَوْجَةُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَهُ: مُصْعَبٌ الزُّبَيْرِيُّ، وَهِيَ جَدَّةُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ أُمُّ أُمِّهِ، قَالَهُ: مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مجھ کو سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی۔
(ب) سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کر لے۔“ عروہ نے اس کا انکار کیا، پھر جب سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تو انہوں نے تصدیق کی۔
(ب) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث کی وجہ سے شرمگاہ کو چھونے سے وضو واجب قرار دیتے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عروہ نے یہ حدیث سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں کہ سیدہ بسرہ بنت صفوان بن نوفل بن اسد رضی اللہ عنہا مبایعات میں سے ہیں اور ورقہ بن نوفل ان کے چچا تھے۔ یہ معاویہ بن مغیرہ بن ابی العاص کی بیوی ہیں۔ یہ مصعب زبیری کا قول ہے اور امام مالک بن انس رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ یہ عبدالملک بن مروان کی نانی ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 625
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ»