السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في الملموس باب: جس عورت کو چھوا جائے اس (کے وضو کے حکم) کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَالْتَمَسْتُهُ بِيَدِي فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ، وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ دُونَ قَوْلِهِ وَهُوَ سَاجِدٌ. وَرَوَاهُ وَهَيْبٌ، وَمُعْتَمِرٌ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ دُونَ ذِكْرِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي إِسْنَادِهِ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے نبی ﷺ کو گم پایا، میں نے آپ کو ہاتھ سے تلاش کیا تو میرے ہاتھ آپ ﷺ کے قدموں پر لگے تو وہ زمین پر کھڑے تھے اور آپ ﷺ سجدے کی حالت میں تھے اور آپ یہ دعا پڑھ رہے تھے: «اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”اے اللہ! میں تیری معافی کے ذریعے تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضی سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری ہی پناہ مانگتا ہوں، میں تیری ثنا (تعریف) کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا تو نے خود اپنی ثنا فرمائی ہے۔“