السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: ما ينهى عن المراكب باب: کن سواریوں (یا زینوں) سے منع کیا گیا ہے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ، وَأَبُو زَيْدٍ وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالُوا: ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شُفَيٍّ، سَمِعَهُ يَقُولُ: خَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو عَامِرٍ الْمَعَافِرِيُّ نُصَلِّي بِإِيلِيَاءَ وَكَانَ قَاضِيهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ: فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَى نَاحِيَتِهِ، فَسَأَلَنِي: هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ؟ قُلْتُ لَهُ: لَا، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرٍ، عَنِ الْوَشْرِ وَالْوَشْمِ وَالنَّتْفِ وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَمُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ أَسْفَلَ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ، وَيَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ، وَعَنِ النُّهْبَى، وَرُكُوبِ النُّمُورِ، وَلُبُوسِ الْخَاتَمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ ".عیاش بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو حصین ہیثم بن شفی رحمہ اللہ سے سنا کہ میں اور ابو عامر معافری رضی اللہ عنہ نے ایلیا جگہ میں نماز پڑھی۔ ان کے قاضی ازد قبیلہ سے تھے۔ ان کو ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا۔ ابو حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرا ساتھی مسجد کی طرف مجھ سے پہلے چلا گیا۔ پھر میں نے اس کو پا لیا، وہ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ اس نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا تو نے ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ کے قصہ کو پایا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: میں نے اس سے سنا ہے کہ نبی ﷺ نے دس چیزوں سے منع فرمایا ہے: ”ایک دانت باریک کرنے سے، دوسری سرمہ بھرنے سے، تیسرا بغلوں کے بال اکھاڑنے سے اور آدمی کا آدمی کے ساتھ بغیر کپڑے کے لیٹنے سے، اسی طرح عورت کا، اور اس سے کہ آدمی اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح دوسرا کپڑا لگائے اور اپنے کندھوں پر عجمیوں کی طرح ریشم لگانے سے اور ڈاکہ ڈالنے، چیتے کی کھال کی زین پر سواری کرنے سے اور انگوٹھی صرف بادشاہ کے لیے ہوتی ہے۔“