السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: الرجل يعلم من نفسه في الحرب بلاء فيعلم نفسه بعلامة باب: آدمی جنگ میں اپنے اندر لڑنے کی بھرپور صلاحیت پائے تو وہ اپنے لیے کوئی خاص علامت مقرر کر لے
حدیث نمبر: 6114
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ لِي أُمَيَّةُ وَأَنَا أَمْشِي مَعَهُ: يَا عَبْدَ الْإِلَهِ، مَنِ الرَّجُلُ مِنْكُمْ مُعَلَّمٌ بِرِيشَةِ نَعَامَةٍ فِي صَدْرِهِ؟ فَقُلْتُ: " ذَاكَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ "، فَقَالَ: ذَاكَ فَعَلَ بِنَا الْأَفَاعِيلَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے امیہ رضی اللہ عنہ پوچھنے لگے اور میں ان کے ساتھ چل رہا تھا: اے اللہ کے بندے! وہ کون آدمی تھا جس کے سینے پر شتر مرغ کے پر کی علامت تھی؟ میں نے کہا: وہ سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ تھے۔ فرمایا: ہمارے ساتھ کرنے والوں نے یہی کیا۔