السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: نهي الرجال عن لبس الذهب باب: مردوں کو سونا پہننے سے منع کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامِ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَذَكَرَ قِصَّتَهُ، ثُمَّ قَالَ الْمِقْدَامُ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي، وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ فَكَذِّبْنِي، قَالَ: فَافْعَلْ، قَالَ: " فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُبْسِ ⦗٣٨٩⦘ الذَّهَبِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ ".سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور اپنا قصہ ذکر کیا کہ: ”اے معاویہ! اگر میں سچ بولوں تو میری تصدیق کرنا، اور اگر جھوٹ بولوں تو میری تکذیب کرنا۔“ وہ فرمانے لگے: ”میں ایسا ہی کروں گا۔“ مقدام رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا آپ نے نبی ﷺ سے سنا، وہ سونا پہننے سے منع فرماتے تھے؟“ فرمایا: ”ہاں۔“ مقدام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، بتائیے کیا نبی ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا؟“ فرمایا: ”ہاں۔“ مقدام رضی اللہ عنہ نے کہا، پھر پوچھا: ”میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں، بتائیے کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی ﷺ درندوں کے چمڑے کے لباس اور ان پر سوار ہونے سے منع فرماتے تھے؟“ فرمایا: ”ہاں۔“