السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الوضوء من الملامسة باب: عورت کو چھونے (ملامسہ) سے وضو ٹوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 609
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا اللَّمْسَ فَقَالَ أُنَاسٌ مِنَ الْمَوَالِي: لَيْسَ مِنَ الْجِمَاعِ. وَقَالَ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ: هِيَ مِنَ الْجِمَاعِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: " مَعَ أَيِّهِمْ كُنْتَ؟ " قُلْتُ: مَعَ الْمَوَالِي. قَالَ: " غُلِبَتِ الْمَوَالِي إِنَّ اللَّمْسَ وَالْمُبَاشَرَةَ مِنَ الْجِمَاعِ، وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُكَنِّي مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ، وَقَوْلُ مَنْ يُوَافِقُ قَوْلُهُ ظَاهِرُ الْكِتَابِ أَوْلَى ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے «اللَّمْسِ» (چھونے) کا ذکر کیا تو موالی میں سے بعض لوگوں نے کہا: یہ جماع نہیں ہے اور اہل عرب نے کہا: یہ جماع ہے۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: تم کن کے ساتھ ہو؟ میں نے کہا: موالی کے ساتھ، تو انہوں نے فرمایا: موالی کی بات ٹھیک نہیں ہے۔ بیشک چھونا اور مباشرت کرنا جماع میں سے ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے کنایہ ذکر کیا جس سے اس نے چاہا۔ ان کا قول ظاہری کتاب کے موافق ہونے میں زیادہ اولیٰ ہے۔