السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: ما ليس له لبسه وافتراشه باب: ان چیزوں کا بیان جنہیں پہننا اور بچھانا جائز نہیں
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ صَفْوَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ يَقُولُ: " اسْتَأْذَنَ سَعْدٌ عَلَى ابْنِ عَامِرٍ وَتَحْتَهُ مُرَافِقٌ مِنْ حَرِيرٍ، فَأَمَرَ بِهَا فَرُفِعَتْ، فَدَخَلَ وَعَلَيْهِ مُطْرَفٌ مِنْ خَزٍّ، فَقَالَ لَهُ: اسْتَأْذَنْتَ عَلَيَّ وَتَحْتِي مُرَافِقٌ مِنْ حَرِيرٍ فَأَمَرْتُ بِهَا فَرُفِعَتْ، فَقَالَ لَهُ: " نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ يَا ابْنَ عَامِرٍ إِنْ لَمْ تَكُنْ مِمَّنْ قَالَ عَزَّ وَجَلَّ {أَذَهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا} [الأحقاف: ٢٠] وَاللهِ لَئَنْ أَضْطَجِعَ عَلَى جَمْرِ الْغَضَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَضْطَجِعَ عَلَيْهَا "..عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ابن عامر رضی اللہ عنہما سے اجازت طلب کی تو ان کے نیچے ریشم کا بچھونا تھا، انہوں نے اسے اٹھانے کا حکم دیا۔ پھر وہ داخل ہوئے تو اس پر ریشم کی چادر تھی، ابن عامر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: اے سعد! آپ نے اجازت طلب کی تو میرے نیچے ریشم کا بچھونا تھا، میں نے اسے اٹھا دیا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے ابن عامر! آپ اچھے آدمی ہیں اگر ایسا نہ ہو جو اللہ رب العزت نے فرمایا: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا﴾ [سورة الأحقاف: 20] کہ تم نے اپنی نیکیوں کا صلہ دنیا میں حاصل کر لیا۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم! جھاؤ کی لکڑی کے کوئلے پر لیٹنا مجھے زیادہ محبوب ہے کہ اس پر لیٹوں۔