حدیث نمبر: 6058
فَأَمَّا رِوَايَتُهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ، فَصَدَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صَدْعَيْنِ، فَصُفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ، وَقَامَتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، قَالَتْ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَلَّوْا خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ، ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمُ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَهُ الثَّانِيَةَ فَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتِهِ الثَّانِيَةِ، وَسَجَدُوا هُمْ لِأَنْفُسِهِمُ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا جِدًّا، لَا يَأْلُو أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَرَكَهُ النَّاسُ فِي صَلَاتِهِ كُلِّهَا ". حَدِيثُهُمَا سَوَاءٌ فِي الْمَعْنَى وَقَدْ تَزِيدُ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى بِكَلِمَةٍ أَوْ نَحْوِهَا.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو ذات الرقاع میں نمازِ خوف پڑھائی۔ نبی ﷺ نے ان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تو ایک صف آپ ﷺ کے پیچھے تھی اور دوسری صف دشمن کے سامنے تھی۔ آپ ﷺ نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا تو انہوں نے بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا جنہوں نے آپ ﷺ کے پیچھے صف بنائی تھی۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا تو انہوں نے بھی رکوع کیا۔ آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو انہوں نے سجدہ کیا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو انہوں نے بھی سر اٹھایا، پھر آپ ﷺ بیٹھے رہے۔ پھر انہوں نے دوسری رکعت پڑھی اور وہ کھڑے ہوئے پھر اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پاؤں چلے یہاں تک کہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہو گئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صف بنائی۔ پھر انہوں نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ پھر انہوں نے رکوع کیا۔ پھر نبی ﷺ نے دوسرا سجدہ کیا۔ انہوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر نبی ﷺ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے دوسرا سجدہ کیا۔ پھر دونوں گروہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے نبی ﷺ کے پیچھے صفیں بنائیں، نبی ﷺ نے ایک رکوع کیا تو ان سب نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو ان سب نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی سر اٹھایا، یہ تمام نبی ﷺ نے جلدی کیا، آپ ﷺ نے تخفیف میں کوتاہی نہیں کی۔ اپنی طاقت کے مطابق ہلکی نماز پڑھائی، پھر نبی ﷺ نے سلام پھیرا تو انہوں نے بھی سلام پھیرا، پھر نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور یقیناً لوگ آپ ﷺ کی تمام نماز میں شریک رہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 6058
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ احمد 6/275»