السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: من قال: صلى بكل طائفة ركعة ولم يقضوا باب: اس شخص کا قول کہ امام ہر گروہ کو ایک رکعت پڑھائے اور وہ قضا (بقیہ رکعت پوری) نہ کریں
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُهَيْبٍ الْفَقِيرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ أَقْصُرُهُمَا؟ قَالَ جَابِرٌ: " إِنَّ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ لَيْسَتَا بِقَصْرٍ، إِنَّمَا الْقَصْرُ رَكْعَةٌ عِنْدَ الْقِتَالِ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ طَائِفَةٌ خَلْفَهُ، وَقَامَتْ طَائِفَةٌ وُجُوهُهَا قِبَلَ وُجُوهِ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ الَّذِينَ صَلُّوا خَلْفَهُ انْطَلَقُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلُّوا خَلْفَ ⦗٣٧٤⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ فَسَلَّمَ وَسَلَّمَ الَّذِينَ خَلْفَهُ وَسَلَّمُوا أُولَئِكَ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَةً رَكْعَةً، ثُمَّ قَرَأَ يَزِيدُ: {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ} [النساء: ١٠٢] ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الَّذِي رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ إِنْ كَانَ لَا يَحْتَمِلُ مَا ذَكَرْنَاهُ مِنَ التَّأْوِيلِ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ خَبَرًا عَنْ صَلَاتِهِ فِي الْغَدَاةِ الَّتِي وَصَفَ هُوَ وَغَيْرُهُ صَلَاتَهُ فِيهَا، وَأَنَّهُمْ قَضَوْا رَكْعَتَهُمُ الْبَاقِيَةَ، وَيَكُونُ فِي حُكْمِ شَيْءٍ أَثْبَتَهُ بَعْضُ الرُّوَاةِ دُونَ بَعْضٍ، فَيُؤْخَذُ بِقَوْلِ الْمُثْبِتِ، وَالْأَصْلُ وَجُوبُ الْعَدَدِ حَتَّى يُثْبَتَ جَوَازُ النُّقْصَانِ عَنْهُ بِمَا لَا يَحْتَمِلُ التَّأْوِيلَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.یزید بن صہیب فقیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا سفر میں دو رکعتوں میں قصر ہے؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سفر میں دو رکعت میں قصر نہیں، لیکن قتال میں ایک رکعت قصر ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ لڑائی کے موقع پر نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور نماز کا وقت ہو گیا۔ نبی ﷺ کھڑے ہو گئے تو ایک گروہ نے آپ ﷺ کے پیچھے صف بنائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ آپ ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور اس میں دو سجدے کیے۔ پھر وہ لوگ جنہوں نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تھی، دوسرے گروہ کی جگہ چلے گئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا اور انہوں نے نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور اس میں دو سجدے کیے۔ پھر نبی ﷺ بیٹھ گئے اور سلام پھیرا۔ پھر ان لوگوں نے سلام پھیرا جو آپ ﷺ کے پیچھے تھے اور دوسروں نے بھی۔ رسول اللہ ﷺ کی دو رکعت اور لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوئی۔
پھر یزید نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ﴾ [سورة النساء: 102] جب آپ ﷺ ان میں موجود ہوں تو ان کے لیے نماز قائم کیجیے۔
شیخ فرماتے ہیں: ممکن ہے جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، یہ نبی ﷺ کی غزوہ میں نماز ہو، اسی طرح دوسروں نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک رکعت اپنے طور پر پڑھی۔ بہرحال اثبات کو لیا جائے گا۔