السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: من قال: صلى بكل طائفة ركعة ولم يقضوا باب: اس شخص کا قول کہ امام ہر گروہ کو ایک رکعت پڑھائے اور وہ قضا (بقیہ رکعت پوری) نہ کریں
حدیث نمبر: 6050
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ: أَتَيْتُ فُلَانَ بْنَ وَدِيعَةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ، فَقَالَ: ايتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَاسْأَلْهُ، فَأَتَيْتُ زَيْدًا فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَفَّ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِي الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ".حافظ ثناء اللہ
قاسم بن حسان فرماتے ہیں کہ میں فلاں بن ودیعہ کے پاس آیا تو میں نے ان سے نمازِ خوف کے بارے میں سوال کیا تو وہ فرمانے لگے: آپ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں اور ان سے سوال کریں۔ میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے نمازِ خوف پڑھائی تو ایک صف آپ ﷺ کے پیچھے تھی اور دوسری صف دشمن کے سامنے۔ آپ ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر یہ دوسری صف کی جگہ پر چلے گئے اور وہ ان کی جگہ پر آگئے۔ آپ ﷺ نے ان کو ایک رکعت نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا۔