السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: الساعة التي في يوم الجمعة وما جاء في فضله على طريق الاختصار باب: جمعہ کے دن کی (مخصوص قبولیت والی) گھڑی اور اختصار کے ساتھ جمعہ کی فضیلت کے متعلق جو مروی ہے
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْقَاسِمِ الْمُقْرِئُ بِمَكَّةَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ وَصِيفٍ الْغَزِّيُّ بِغَزَّةَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ الْفَرَجِ الْغَزِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ مَهْرَوَيْهٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُسِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ يُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ⦗٣٥٦⦘ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللهُ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ إِيَّاهُ ". فَقَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ، فَقُلْتُ: بَلْ هُوَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثًا آخَرَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبِ الْأَحْبَارِ وَمَا حَدَّثْتُهُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: كَذَبَ كَعْبٌ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ: فَأَخْبِرْنِي بِهَا وَلَا تَضِنَّنَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي، وَتِلْكَ سَاعَةٌ لَا يُصَلَّى فِيهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: هُوَ ذَلِكَ. لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ فَجَعَلَ قَوْلَهُ " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ " رِوَايَةً عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ كَعْبٍ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں طور کی جانب گیا وہاں کعب احبار سے ملاقات ہوئی۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا تو انہوں نے توراۃ کے بارے میں بیان کیا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے۔ اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، جنت سے اتارا گیا، توبہ قبول کی گئی، اسی میں فوت ہوئے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ ہر جمعہ کے دن سورج طلوع ہونے سے ڈرتا ہے اور اس میں ایک گھڑی ایسی ہے اگر مسلمان بندہ اس کی موافقت کرلے اور وہ نماز کی حالت میں اللہ سے بھلائی کی دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو عطا کردیں گے۔“ کعب فرماتے ہیں کہ کیا یہ دن سال میں ایک مرتبہ آتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں بلکہ یہ دن ہر جمعہ میں ہوتا ہے تو کعب احبار نے توراۃ کی تلاوت کی اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا۔ پھر دوسری حدیث بیان کی۔ پھر فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما سے ملا تو میں نے ان کو کعب احبار کے ساتھ اپنی مجلس کا تذکرہ کیا اور وہ جو میں نے ان کو جمعہ کے دن کے بارے میں بیان فرمایا اور بتلایا کہ کعب احبار کہنے لگے: یہ دن سال میں ایک مرتبہ آتا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: کعب نے جھوٹ بولا ہے۔ میں نے کہا: جی ہاں پھر کعب نے توراۃ کی تلاوت کی اور کہا: ہاں یہ دن ہر جمعہ میں ہے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: کعب نے سچ کہا ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں جانتا ہوں یہ کون سی گھڑی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: مجھے بھی بتاؤ اور بخل نہ کرنا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہوتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کیسے کہتے ہیں کہ یہ جمعہ کے دن آخری گھڑی ہوتی ہے، حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے: ”مسلمان بندہ اس گھڑی کی موافقت کرتا ہے اور وہ حالتِ نماز میں ہوتا ہے“ اور یہ وقت ایسا ہے کہ اس میں نماز نہیں ہوتی۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: کیا نبی ﷺ نے نہیں فرمایا ہے: ”جو نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے وہ نماز ہی کی حالت میں ہوتا ہے جب تک وہ نماز نہ پڑھ لے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہاں اسی طرح ہی ہے۔