السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يؤمر به في ليلة الجمعة ويومها من كثرة الصلاة على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقراءة سورة الكهف وغيرها باب: جمعہ کی رات اور اس کے دن میں رسول اللہ ﷺ پر کثرت سے درود بھیجنے، سورہ کہف اور دیگر سورتیں پڑھنے کے حکم کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ؛ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ، يَقُولُونَ: قَدْ بَلِيتَ؟ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ ". وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مَرَّةً: " إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے ایام میں افضل دن جمعہ کا دن ہے؛ کیونکہ اس میں آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے اور اسی میں ہی فوت ہوئے۔ اسی میں صور پھونکا جائے گا اور اس میں بے ہوشی ہو گی، لہٰذا تم اس دن مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو؛ کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارا درود آپ ﷺ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ جبکہ آپ ﷺ تو بوسیدہ ہو جائیں گے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کے اجسام مٹی پر حرام کر دیے ہیں۔“ ابوعبداللہ رحمہ اللہ دوسری روایت میں فرماتے ہیں کہ: ”تمہارا سب سے بہترین دن جمعہ کا دن ہے۔“