السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما ورد في كفارة من ترك الجمعة بغير عذر باب: جو شخص بلا عذر جمعہ چھوڑ دے اس کے کفارے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 5990
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، أَنَّ قَتَادَةَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ الْفَزَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ بِغَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِرْهَمٍ أَوْ نِصْفِ دِرْهَمٍ أَوْ صَاعٍ أَوْ مُدٍّ ". قَالَ سَعِيدٌ: فَسَأَلْتُ قَتَادَةَ: هَلْ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَشَكَّ فِي ذَلِكَ، قَالَ سَعِيدٌ: وَقَدْ ذَكَرَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا أَنَّ قَتَادَةَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَاهُ أَيُّوبُ بْنُ مِسْكِينٍ أَبُو الْعَلَاءِ عَنْ قَتَادَةَ فَأَرْسَلَهُ.حافظ ثناء اللہ
صحابی رسول سیدنا سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس نے بغیر عذر کے جمعہ چھوڑ دیا تو وہ ایک درہم یا نصف درہم صدقہ کرے یا ایک صاع یا مد صدقہ کرے۔“
سعید کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا وہ اسے نبی ﷺ تک مرفوع بیان کرتے ہیں؟ تو انہیں اس میں شک ہوا۔ سعید کہتے ہیں: ہمارے بعض ساتھیوں نے ذکر کیا ہے کہ قتادہ اسے نبی ﷺ تک مرفوع بیان کرتے ہیں۔