السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: التشديد في ترك الجمعة سوى ما مضى في أول هذا الكتاب باب: جمعہ چھوڑنے پر اس وعید کا بیان جو اس کتاب کے شروع میں گزر چکی وعیدوں کے علاوہ ہے
حدیث نمبر: 5988
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَوْلَى عُفْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ثَعْلَبَةَ بْنَ أَبِي مَالِكٍ يُخْبِرُ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ تَكُونُ لَهُ الْغَنِيمَةُ فِي حَاشِيَةِ الْقَرْيَةِ يَكُونُ فِيهَا وَيَشْهَدُ الصَّلَاةَ، فَإِذَا تَعَذَّرَتْ عَلَيْهِ قَالَ: لَوْ أَنِّي ارْتَفَعْتُ إِلَى رَدْهَةٍ هِيَ أَعْفَى مِنْهَا كَلَاءً فَيَرْتَفِعُ إِلَيْهَا حَتَّى لَا يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ إِلَّا كُلَّ جُمُعَةٍ، حَتَّى إِذَا تَعَذَّرَتْ وَأَكَلَ مَا حَوْلَهَا قَالَ: لَوِ ارْتَفَعَتُ إِلَى رَدْهَةٍ هِيَ أَعْفَى مِنْهَا كَلَاءً، فَيَرْتَفِعُ إِلَيْهَا حَتَّى لَا يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ، وَلَا يَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟ حَتَّى يَطْبَعَ اللهُ عَلَى قَلْبِهِ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ایک شخص کا بکریوں کا ریوڑ بستی سے باہر تھا اور وہ نماز میں حاضر ہوتا تھا۔ جب ریوڑ پر مشکل آئی تو اس نے سوچا: میں اپنا ریوڑ وہاں لے جاؤں جہاں گھاس زیادہ ہو۔ وہ ریوڑ وہاں لے گیا، پھر مسجد میں نہ آتا تھا صرف جمعہ کے دن آتا تھا اور جب اس میں بھی مشکل ہوئی اور جانوروں نے اپنے ارد گرد کا گھاس کھالیا تو وہ ان کو زیادہ گھاس والی جگہ کی طرف لے گیا۔ پھر وہ جمعہ میں بھی نہیں آتا تھا، بلکہ وہ جمعہ کے دن کو بھی نہیں جانتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ نے اس کے دل پر مہر لگا دی۔“