السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: المأموم يركع في المسجد فيتحول عن مقامه أو يفصل بينهما بكلام باب: مقتدی مسجد میں (سنتوں کی) رکعتیں پڑھے تو اپنی جگہ سے ہٹ جائے یا ان (فرض اور سنتوں) کے درمیان بات چیت سے فاصلہ کرے
حدیث نمبر: 5946
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " كَانَ إِذَا كَانَ بِمَكَّةَ وَصَلَّى الْجُمُعَةَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّى أَرْبَعًا وَإِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ صَلَّى الْجُمُعَةَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْمَسْجِدِ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
عطا رحمہ اللہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ مکہ میں تھے تو انہوں نے نماز جمعہ ادا کی اور آگے بڑھ کر دو رکعات پڑھیں، پھر آگے بڑھ کر چار رکعات ادا فرمائیں اور جب مدینہ میں تھے تو نماز جمعہ ادا کی۔ پھر گھر واپس آئے اور دو رکعات ادا کیں، مسجد میں نماز نہیں پڑھی، ان سے پوچھا گیا تو فرمانے لگے: ”نبی ﷺ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“