حدیث نمبر: 5944
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي ⦗٣٤١⦘ خُوَارٍ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ، يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: " نَعَمْ، صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تُكَلِّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَ بِذَلِكَ أَنْ لَا تُوصِلَ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ ". وَفِي رِوَايَةِ النَّرْسِيِّ " أَنْ لَا تُصَلِّيَ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ

عمر بن عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نافع بن جبیر رحمہ اللہ نے ان کو سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ کیا کہ وہ ان سے سوال کریں جو انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی نماز کو دیکھا ہے۔ کہنے لگے: میں نے ان کے ساتھ مقصورہ میں نماز جمعہ ادا کی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہوا اور نماز پڑھی۔ جب وہ (گھر) داخل ہوئے تو میری طرف پیغام بھیجا کہ آئندہ ایسا نہ کرنا جو تم نے کیا ہے، ”جب آپ نماز جمعہ ادا کریں تو اس کے ساتھ کوئی دوسری نماز نہ ملائیں یہاں تک کہ اپنی جگہ تبدیل کر لیں یا کلام کر لیں، کیونکہ نبی ﷺ نے یہی حکم دیا ہے کہ نماز کے ساتھ نماز کو نہ ملایا جائے جب تک کہ جگہ کی تبدیلی ہو یا پھر درمیان میں کلام“۔ نرسی کی روایت میں ہے کہ اپنی جگہ چھوڑ دو یا کلام کر لو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5944
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 883»