السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: الرجل يقوم للرجل من مجلسه باب: آدمی کا کسی (دوسرے) آدمی کے لیے اپنی بیٹھنے کی جگہ سے کھڑے ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 5901
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، أَنَّ أَبَا بَكَرَةَ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فِي شَهَادَةٍ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ مَجْلِسِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكَرَةَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَامَ لَكَ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَلَا تَجْلِسْ فِيهِ "، أَوْ قَالَ: " لَا تُقِمْ رَجُلًا مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ تَجْلِسُ فِيهِ، وَلَا تَمَسَحْ يَدَكَ بِثَوْبِ مَنْ لَا تَمْلِكُ ". فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْإِقَامَةِ كَمَا رَوَاهُ الْحُفَّاظُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ، وَأَبَا بَكَرَةَ كَانَا يَتَنَزَّهَانِ عَنِ الْجُلُوسِ، وَإِنْ قَامُوا لَهُمَا تَبَرُّعًا دُونَ الْإِقَامَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سعید بن ابوالحسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ گواہی کے سلسلہ میں آئے تو ان کے لیے ایک آدمی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ”جب کوئی آدمی تیرے لیے اپنی جگہ چھوڑے تو اس جگہ نہ بیٹھ“ یا فرمایا: ”کسی آدمی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھا کہ پھر تو اس میں بیٹھ جائے اور ایسے کپڑے سے ہاتھ صاف نہ کر جس کا تو مالک نہیں۔“
(ب) ابن عمر اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما دونوں حضرات ناپسند کرتے تھے کہ کوئی ان کے لیے اپنی جگہ چھوڑے یا وہ خود کسی کو اٹھائیں۔