السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء من النوم قاعدا باب: بیٹھ کر سونے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 590
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، نا أَبُو دَاودَ، نا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ، نا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ، ينْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ حَتَّى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ، ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ " قَالَ أَبُو دَاودَ: زَادَ فِيهِ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ: عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عشاء کی نماز کا انتظار کرتے اور نیند سے ان کے سر جھک جاتے، پھر وہ نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شعبہ نے قتادہ سے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کا فعل ہے۔