السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: فضل المشي إلى الصلاة وترك الركوب إليها باب: نماز کی طرف چل کر جانے اور اس کے لیے سواری ترک کر دینے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5880
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: " امْشُوا إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَدْ مَشَى إِلَيْهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكُمْ: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَالْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، قَارِبُوا الْخُطَى، وَأَكْثِرُوا ذِكْرَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَصْحَبَ أَحَدًا، إِلَّا مَنْ أَعَانَكَ عَلَى ذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".حافظ ثناء اللہ
ابو احوص، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ تم نماز کی طرف چل کر جاؤ؛ کیونکہ جو تم سے بہتر تھے یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور انصار و مہاجرین رضی اللہ عنہم، وہ نماز کی طرف پیدل جاتے تھے۔ قدم قریب قریب رکھو اور اللہ کا ذکر زیادہ کرو اور تمہارا ساتھی وہ بنے جو تمہاری اللہ کے ذکر پر مدد کرے۔