السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: فضل المشي إلى الصلاة وترك الركوب إليها باب: نماز کی طرف چل کر جانے اور اس کے لیے سواری ترک کر دینے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5878
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ بَكَّرَ وَابْتَكَرَ، وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ، وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ، وَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ، أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جس نے جمعہ کے دن سر کو دھویا اور غسل کیا، پھر صبح سویرے چلا، سوار نہیں ہوا اور امام کے قریب ہو کر غور سے خطبہ سنا اور فضول بات نہیں کی تو اس کو ایک قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ملے گا۔“