حدیث نمبر: 5874
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بْنُ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَأَسْرَعَ الْمَشْيَ فَانْتَهَى إِلَى الْقَوْمِ وَقَدِ انْبَهَرَ، فَقَالَ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٢٤⦘ الصَّلَاةَ، قَالَ: " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ؟ وَمَنِ الْقَائِلُ؟ فَإِنَّهُ قَدْ قَالَ خَيْرًا، لَمْ يَقُلْ بَأْسًا " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ انْتَهَيْتُ إِلَى الصَّفِّ، وَقَدِ انْبَهَرْتُ وَحَفَزَنِي النَّفَسُ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا إِلَيْهِمْ بِرَفْعِهَا "، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيَمْشِ عَلَى هُنَيَّةٍ، وَيُصَلِّي مَا أَدْرَكَ، وَيَقْضِي مَا سَبَقَهُ ".
حافظ ثناء اللہ

حمید سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص تیز چل رہا تھا، جب وہ لوگوں کے پاس آیا تو اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔ جس وقت وہ نماز میں کھڑا ہوا تو اس نے کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» ”تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، ایسی تعریف جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور برکت والی ہو“۔ جب نبی ﷺ نے نماز پوری کی تو پوچھا: ”کلام کرنے والا کون تھا؟ اس نے اچھے کلمات کہے ہیں کوئی بری بات نہیں کی۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں صف میں ملا تو میرا سانس پھولا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا وہ ان کلمات کو اٹھانے میں جلدی کر رہے تھے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کی طرف آئے تو اپنی حالت پر چلتے ہوئے آئے اور جو نماز اس کو مل جائے وہ پڑھ لے اور جو گزر جائے اس کو پوری کرلے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5874
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»