السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: صفة المشي إلى الجمعة باب: جمعہ کی طرف چل کر جانے کے طریقے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبا الشَّافِعِيُّ، أنبا سُفْيَانَ بْنُ عُيَيْنَةَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمَعْقُولٌ إِنَّ السَّعْيَ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ الْعَمَلُ لَا السَّعْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ، قَالَ اللهُ تَعَالَى {إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى} [الليل: ٤] وَقَالَ {وَكَانَ سَعْيُكُمْ مَشْكُورًا} [الإنسان: ٢٢] وَقَالَ {وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ} [الإسراء: ١٩] وَقَالَ {وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى} [النجم: ٣٩] وَقَالَ {وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا} [البقرة: ٢٠٥]. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ مَا يُؤَكِّدُ هَذَا.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں «سَعْي» سے مراد عمل ہے، پاؤں سے چلنا مراد نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ﴾ [سورة الليل: 4] ”تمہاری محنت و کوشش مختلف ہے۔“
اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ﴾ [سورة الإسراء: 19]
”اور جو آخرت کا ارادہ کرتا ہے اور اس کے لیے کوشش بھی کرتا ہے وہ مومن ہے۔“
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا﴾ [سورة الإنسان: 22]
”اور تمہاری کوشش کی قدر کی جائے گی۔“
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ﴾ [سورة النجم: 39]
”انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔“
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا﴾ [سورة البقرة: 205]۔
”اور جب وہ پھرتا ہے زمین میں فساد کی کوشش کرتا ہے۔“