السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما دل على جواز إمامته في الصلاة باب: اس دلیل کا بیان جو نماز میں اس (نابالغ) کی امامت کے جواز پر دلالت کرتی ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مِسْعَرٌ يَعَنِي ابْنَ حَبِيبٍ الْجَرْمِيَّ، ثنا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَاهُ وَنَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ وَفَدُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَسْلَمَ النَّاسُ لِيَتَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَلَمَّا قَضَوْا حَاجَتَهُمْ قَالُوا: مَنْ يُصَلِّي بِنَا أَوْ لَنَا، فَقَالَ: " يُصَلِّي بِكُمْ أَكْثَرُكُمْ أَخْذًا أَوْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ " قَالَ: فَجَاؤُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، فَسَأَلُوا، فَلَمْ يَجِدُوا أَحَدًا جَمَعَ أَوْ أَخَذَ مِنَ الْقُرْآنِ أَكْثَرَ مِمَّا جَمَعْتُ أَوْ أَخَذْتُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ، وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ لِي، فَقَدَّمُونِي، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ، فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلَّا وَأَنَا إِمَامُهُمْ إِلَى يَوْمِي هَذَا ". قَالَ مِسْعَرُ بْنُ حَبِيبٍ: وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ عَلَى جَنَائِزِهِمْ وَفِي مَسَاجِدِهِمْ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ. وَرُوِّينَاهُ فِي بَابِ الْإِمَامَةِ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عَمْرٍو، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ، أَوْ سِتِّ سِنِينَ، وَفِي رِوَايَةٍ: سَبْعٍ أَوْ ثَمَانٍ ".(الف) عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد اور ان کی قوم کا وفد نبی ﷺ کے پاس آیا، جب لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تاکہ وہ قرآن سیکھیں۔ جب وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے تو نبی ﷺ سے سوال کیا کہ ہمیں نماز کون پڑھائے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو قرآن زیادہ یاد ہو۔“ وہ اپنی قوم کے پاس آ گئے تو انہوں نے سوال کیا، لیکن کوئی بھی مجھ سے زیادہ قرآن کو جمع کرنے والا اور یاد رکھنے والا نہ تھا۔ میں اس وقت بچہ تھا اور میرے اوپر ایک چادر تھی۔ انہوں نے مجھے آگے کر دیا، میں نے ان کو نماز پڑھائی۔ فرماتے ہیں: جب بھی یہ لوگ اکٹھے ہوتے تو میں ان کی امامت کرواتا تھا۔ مسعر بن حبیب فرماتے ہیں کہ وہ ان کے جنازے بھی پڑھاتے اور وہ اپنی مساجد میں ہوتے۔
(ب) ایوب سختیانی، عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ سات یا چھ سال کے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ سات یا آٹھ سال کے تھے۔