السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: استيذان المحدث الإمام باب: جس کا وضو ٹوٹ جائے اس کا امام سے اجازت مانگنے کا بیان
قَالَ اللهُ جَلَّ ثنَاؤُهُ: {وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ} [النور: 62] قَالَ مُجَاهِدٌ: " ذَاكَ فِي الْغَزْوِ وَالْجُمُعَةِ، وَإِذْنُ الْإِمَامِ أَنْ يُشِيرَ بِيَدِهِ ". وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: " فِي الْحَرْبِ وَنَحْوِهَا ". وَعَنْ مَكْحُولٍ هِيَ، قَالَ: " فِي الْغَزْوِ وَالْجُمُعَةِ، وَلَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ "، وَعَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: " رَأَيْتُهُمْ يَسْتَأْذِنُونَ الْإِمَامَ وَهُوَ يَخْطُبُ يُشِيرُ الرَّجُلُ بِيَدِهِ، وَيُشِيرُ الْإِمَامُ وَلَا يَتَكَلَّمُ ". وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يَقُولُ: " لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَأْذِنَ الْإِمَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ، وَدَلَّ عَلَى صِحَّةِ قَوْلِهِ مَا ".اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ﴾ ”اور جب وہ (مومن) کسی اجتماعی کام پر آپ کے ساتھ ہوں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لے لیں، واپس نہیں جاتے۔“ [سورة النور: 62]
امام مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس سے مراد جہاد اور نمازِ جمعہ ہے، اور امام کی طرف سے اجازت یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر دے۔“
اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”یہ جنگ اور اس جیسے دیگر مواقع کے بارے میں ہے۔“
اور امام مکحول رحمہ اللہ کے بارے میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”یہ جہاد اور نمازِ جمعہ کے متعلق ہے، اور یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔“
اور عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھا کہ وہ امام سے اجازت طلب کرتے تھے جبکہ وہ خطبہ دے رہا ہوتا تھا، اجازت طلب کرنے والا شخص اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتا تھا اور امام بھی جواب میں اشارہ کر دیتا تھا اور کوئی بات نہیں کرتا تھا۔“
اور امام مالک بن انس رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ”جب کوئی شخص جمعہ کے دن باہر جانا چاہے تو اس پر امام سے اجازت لینا لازم نہیں ہے، اور ان کے اس قول کی صحت پر وہ بات دلالت کرتی ہے جو (آگے بیان کی گئی ہے)۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ⦗٣١٧⦘ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَأْخُذْ بِأَنْفِهِ، ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ. رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ هِشَامٍ مُرْسَلًا دُونَ ذِكْرِ عَائِشَةَ فِيهِ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ هِشَامٍ مُرْسَلًا قَالَ: " إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيُمْسِكْ عَلَى أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَخْرُجْ ".(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز میں تم میں سے کوئی بے وضو ہو جائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر نکل جائے۔“
(ب) ہشام رحمہ اللہ مرسل روایت نقل فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن بے وضو ہو جائے تو وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھے اور نکل جائے۔