السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يكره من الدعاء لأحد بعينه أو على أحد بعينه في الخطبة باب: خطبے میں کسی خاص شخص کے لیے یا کسی خاص شخص کے خلاف دعا کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5813
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " الَّذِي أَرَى النَّاسَ يَدْعُونَ بِهِ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَئِذٍ أَبَلَغَكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَمَّنْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " لَا، إِنَّمَا أُحْدِثَ إِنَّمَا كَانَتِ الْخُطْبَةُ تَذْكِيرًا ". وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَغَيْرِهِ فِي خُطْبَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: وہ جو آپ لوگوں کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ دورانِ خطبہ دعا کرتے ہیں، آج کل۔ کیا آپ کو نبی ﷺ کی کوئی حدیث ملی یا یہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد شروع ہوا؟ انہوں نے فرمایا: حدیث تو کوئی نہیں لیکن یہ بدعت ہے۔