السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يستحب من القصد في الكلام وترك التطويل باب: گفتگو میں میانہ روی اختیار کرنے کے مستحب ہونے اور طوالت کو ترک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5761
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: " كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ ﷺ کی نماز اور خطبہ درمیانہ ہوتا تھا۔