السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يستحب من تبيين الكلام وترتيله، وترك العجلة فيه باب: گفتگو کو واضح اور ٹھہر ٹھہر کر کرنے کے مستحب ہونے اور اس میں جلد بازی چھوڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 5759
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ رَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ أسامة، عَنِ الْقَاسِمِ، وَالزُّهْرِيِّ، صَحِيحَانِ جَمِيعًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ ثَبَتَ الْحَدِيثُ فِي مَعْنَاهُ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَغَيْرِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْمَدْخَلِ.حافظ ثناء اللہ
وکیع بن جراح اور ابو اسامہ نے بھی اسی سند سے ثوری سے یہ روایت نقل کی ہے۔ ابو القاسم سلیمان بن احمد لخمی (طبرانی) فرماتے ہیں: اسامہ کی قاسم سے اور زہری سے دونوں روایتیں صحیح ہیں۔
شیخ (بیہقی) فرماتے ہیں: اس مفہوم کی حدیث یونس بن یزید وغیرہ سے، وہ زہری سے، وہ عروہ سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے، جو کتاب المدخل میں گزر چکی ہے۔