السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: الإمام يعتمد على عصا أو قوس أو ما أشبههما إذا خطب باب: امام جب خطبہ دے تو لاٹھی یا کمان یا ان جیسی کسی چیز کا سہارا لے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ جَابِرٍ الزَّيَّاتُ، بِالرَّمْلَةِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مِرْشَلِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ نُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ حَزْنٍ الْكُلْفِيِّ قَالَ: أَتَيْنَاهُ فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ، أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ، فَأَذِنَ لَنَا عَلَيْهِ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا، فَقُلْنَا: زُرْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ لِتَدْعُوَ اللهَ لَنَا، أَوْ تَدْعُوَ لَنَا بِخَيْرٍ، قَالَ: فَدَعَا لَنَا بِخَيْرٍ، فَأَمَرَ بِنَا فَأُنْزِلْنَا وَأَمَرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرٍ، وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاكَ دُونٌ. قَالَ: فَأَقَمْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامًا شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَكَّأُ عَلَى قَوْسٍ، أَوْ قَالَ عَلَى عَصًا، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِكَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَنْ تُطِيقُوا، أَوْ إِنَّكُمْ لَنْ تَفْعَلُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِ عَنْ شِهَابِ بْنِ خِرَاشٍ.شعیب بن رزیق، حکم بن حزن کلفی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ان کے پاس آئے، وہ ہمیں نبی ﷺ کی احادیث بیان کرنا شروع ہو گئے۔ فرمانے لگے: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس نو یا سات آدمیوں کا وفد بن کر آئے۔ ہم نے آپ ﷺ سے اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے ہمیں اجازت دے دی۔ ہم آپ ﷺ کے پاس داخل ہوئے اور سلام کے بعد عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ ﷺ کی زیارت کے لیے آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا کریں یا کہا: آپ ہمارے لیے بھلائی کی دعا کریں۔ آپ ﷺ نے ہمارے لیے بھلائی کی دعا کی اور ہماری مہمانی کا حکم دیا اور ہمارے لیے کھجوروں کا حکم دیا اور حالت اس سے کم تر تھی۔
ہم نے نبی ﷺ کے پاس قیام کیا، انہی ایام میں ہم جمعہ کے لیے حاضر ہوئے تو نبی ﷺ کمان پر لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا پاکیزہ اور مبارک کلمات کے ساتھ کی۔ پھر فرمایا: ”اے لوگو! تم طاقت نہیں رکھتے“ یا فرمایا: ”تم ہرگز نہ کر سکو گے جس کا تم حکم دیے گئے ہو، لیکن تم سیدھے رہو اور میانہ روی اختیار کرو اور خوشخبری دو۔“