السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الوضوء من الدم يخرج من أحد السبيلين وغير ذلك من دود أو حصاة أو غيرهما باب: سبیلین (پیشاب اور پاخانے کے راستوں) میں سے کسی ایک سے خون، یا اس کے علاوہ کیڑے، پتھری یا کسی اور چیز کے نکلنے سے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 567
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْوُضُوءُ مِنَ الطَّعَامِ، قَالَ الْأَعْمَشُ مَرَّةً: وَالْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ، فَقَالَ: " إِنَّمَا الْوُضُوءُ مِمَّا خَرَجَ، وَلَيْسَ مِمَّا دَخَلَ، وَإِنَّمَا الْفِطْرُ مِمَّا دَخَلَ، وَلَيْسَ مِمَّا خَرَجَ. وَرُوِيَ أَيْضًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ مِنْ قَوْلِهِ. وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَثْبُتُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس کھانا کھانے کے بعد وضو کا ذکر کیا گیا۔ ایک مرتبہ اعمش نے پوچھا: روزے دار کو سینگھی لگوانا؟ تو انہوں نے فرمایا: وضو نکلنے والی چیز سے ہے، داخل ہونے والی چیز سے نہیں ہے اور روزے کا ٹوٹنا داخل ہونے والی چیز سے ہے، نکلنے والی چیز سے نہیں ہے۔