حدیث نمبر: 5664
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُوسَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ أَتَيَاهُ فَسَأَلَاهُ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، أَوَاجِبٌ هُوَ؟ فَقَالَ لَهُمَا ابْنُ عَبَّاسٍ: " مَنِ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَحْسَنُ وَأَطْهَرُ، وَسَأُخْبِرُكُمْ لِمَاذَا بَدَأَ الْغُسْلُ، كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَيَسْقُونَ النَّخْلَ عَلَى ظُهُورِهِمْ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، وَمِنْبَرُهُ قَصِيرٌ، إِنَّمَا هُوَ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَعَرِقَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ فَثَارَتْ أَرْوَاحُهُمْ رِيحَ الْعَرَقِ وَالصُّوفِ حَتَّى كَادَ يُؤْذِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا، حَتَّى بَلَغَتْ أَرْوَاحُهُمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمُ فَاغْتَسِلُوا، وَلَيَمَسَّنَّ أَحَدُكُمْ مَا يَجِدُ مِنْ طِيبِهِ أَوْ دُهْنِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ دو عراقی شخص آئے اور انہوں نے غسلِ جمعہ کے وجوب کے بارے میں سوال کیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: غسل کرنا زیادہ پاکیزہ اور اچھا ہے۔ لیکن غسل کی ابتدا کیوں ہوئی، میں بتاتا ہوں: لوگ نبی ﷺ کے دور میں غریب تھے اور اون کا لباس پہنتے تھے۔ وہ کھجوریں اپنی کمروں پر لاتے تھے اور مسجدیں تنگ اور چھتیں قریب تھیں۔ ایک مرتبہ نبی ﷺ سخت گرمی میں جمعہ کے دن نکلے۔ آپ ﷺ کا منبر بھی چھوٹا تھا اور تین سیڑھیاں تھیں۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا تو اون کے لباس میں پسینے کی وجہ سے اون اور پسینے کی بو پیدا ہوئی جس کی وجہ سے لوگوں نے تکلیف محسوس کی اور اس کی بو نبی ﷺ تک بھی پہنچ گئی۔ جب آپ ﷺ منبر پر تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگو! جب یہ دن ہو تو غسل کر لیا کرو اور گھر سے خوشبو اور تیل لگا لیا کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5664
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ احمد 1/268»