السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
جماع أبواب الغسل للجمعة والخطبة وما يجب في صلاة الجمعة -- باب: السنة لمن أراد الجمعة أن يغتسل باب: جمعہ کے لیے غسل، خطبہ اور نمازِ جمعہ میں جو کچھ واجب ہے ان ابواب کا جامع بیان -- باب: جو شخص جمعہ پڑھنے کا ارادہ رکھے اس کے لیے غسل کرنا سنت ہے
حدیث نمبر: 5662
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَالْحَسَنُ بْنُ طَيِّبٍ الشُّجَاعِيُّ قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ بَيْدَ أَنَّ كُلَّ أُمَّةٍ أُوتُوا الْكِتَابِ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللهُ لَهُ، فَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى " ثُمَّ سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: " حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ وُهَيْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہم بعد میں آنے والے قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے۔ صرف پہلی امتوں کو ہم سے پہلے کتابیں دی گئیں اور ہمیں ان کے بعد۔ لیکن یہ دن (جمعہ) جس میں انہوں نے اختلاف کیا، اس دن کے لیے اللہ نے ہماری رہنمائی فرما دی۔ دوسرا دن یہود کا ہے اور اس کے بعد عیسائیوں کے لیے۔“ پھر آپ خاموش ہو گئے، پھر فرمایا: ”مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ ہفتہ میں ایک دن مکمل غسل کرے۔۔“