حدیث نمبر: 565
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتَفْتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، ⦗١٨٧⦘ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " ذَلِكَ عِرْقٌ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ أَثَرَ الدَّمَ وَتَوَضَّئِي فَصَلِّي، فَإِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ حَمَّادٍ دُونَ قَوْلِهِ: " وَتَوَضَّئِي ". ثُمَّ قَالَ مُسْلِمٌ: وَفِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ زِيَادَةُ حَرْفٍ تَرَكْنَا ذِكْرَهُ، وَهَذَا لِأَنَّ هَذِهِ الزِّيَادَةَ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ، إِنَّمَا الْمَحْفُوظُ مَا رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَفِي آخِرِهِ قَالَ: قَالَ هِشَامٌ: قَالَ أَبِي: ثُمَّ تَوَضَّأْ لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ لیا کہ مجھے استحاضہ آتا ہے اور میں پاک نہیں ہوتی تو کیا میں نماز کو چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رگ سے ہے حیض نہیں ہے، جب یہ آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب بند ہو جائے تو خون کے نشان کو دھو اور وضو کر کے نماز ادا کر۔ یہ رگ سے ہے حیض نہیں ہے۔“
(ب) صحیح مسلم میں «تَوَضَّئِي» ”تم وضو کرو“ کے الفاظ نہیں ہیں، امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث حماد بن زید میں الفاظ زیادہ ہیں، ہم نے اس کو روایت نہیں کیا اور یہ زیادتی محفوظ بھی نہیں ہے۔
(ج) ہشام کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا: پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ دوسری کا وقت آ جائے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 565
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»