السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الوضوء من المذي والودي باب: مذی اور ودی نکلنے کی وجہ سے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 562
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَحَدِنَا إِذَا خَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ مَاذَا عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ؟ فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، فَقَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: " إِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَغْسِلْ فَرْجَهُ، وَيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ". هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْصُولًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ ہم میں سے کسی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کروں کہ جب مذی خارج ہو تو اس پر کیا ہے؟ اس لیے کہ میرے پاس آپ ﷺ کی بیٹی ہے اور میں سوال کرنے سے حیا کرتا ہوں۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی یہ (مذی) پائے تو اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور نماز جیسا وضو کر لے۔“
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت موصولاً منقول ہے۔