حدیث نمبر: 5553
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي الرَّبِيعِ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَبَدَتِ النُّجُومُ فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لَا يَفْتُرُ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " أَتُعَلِّمُنِي السُّنَّةَ لَا أُمَّ لَكَ "، ثُمَّ قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ". قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ شَقِيقٍ: فَحَاكَ فِي صَدْرِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَسَأَلْتُهُ فَصَدَّقَ مَقَالَتَهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ ایک دن عصر کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خطبہ دیا، سورج غروب ہو گیا اور ستارے ظاہر ہو گئے۔ لوگ کہنے لگے: نماز! نماز! بنو تمیم کا ایک شخص آیا اور مسلسل کہہ رہا تھا: نماز! نماز! تو انہوں نے فرمایا: تیری ماں نہ ہو، تو مجھے سنت سکھائے گا! پھر فرمایا: میں نے نبی ﷺ کو دیکھا، وہ ظہر و عصر اور مغرب و عشا کو جمع کر لیتے تھے۔ عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں: میرے دل میں کوئی بات کھٹکی تو میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے ان سے سوال کیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی ان کی تصدیق کر دی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5553
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 705»