السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الجمع في المطر بين الصلاتين باب: بارش میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5547
فَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ⦗٢٣٧⦘ ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَ جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا ". وَقَالَ عَلِيٌّ: وَحَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ. وَزَادَ سُفْيَانُ مَرَّةً فِي حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ: فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ.حافظ ثناء اللہ
(الف) جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ آٹھ یا سات نمازیں اکٹھی پڑھی ہیں۔
(ب) سعید بن جبیر رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: تاکہ آپ ﷺ کی امت پر حرج نہ ہو۔ سفیان رحمہ اللہ نے کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ بغیر خوف اور سفر کے۔