السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الجمع بين الصلاتين في السفر باب: سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: " مَا أَشَدُّ مَا رَأَيْتُ أَبَاكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: " غَرَبَتْ لَهُ الشَّمْسُ بِذَاتِ الْجَيْشِ فَصَلَّاهَا بِالْعَقِيقِ ". وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَزَادَ فِيهِ: ثَمَانِيَةَ أَمْيَالٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَزَادَ فِيهِ قَالَ: قُلْتُ: أِيُّ سَاعَةٍ تِلْكَ؟ قَالَ: قَدْ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ رُبْعُهُ، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: فَسَارَ أَمْيَالًا ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، قَالَ يَحْيَى: وَذَكَرَ لِي نَافِعٌ هَذَا الْحَدِيثَ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ: سَارَ قَرِيبًا مِنْ رُبْعِ اللَّيْلِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى.یحییٰ بن سعید نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ نے اپنے والد کو سفر میں مغرب کو زیادہ سے زیادہ کتنا مؤخر کرتے دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ذات الجیش نامی جگہ پر ان کے لیے سورج غروب ہوا تو انہوں نے عقیق نامی جگہ پر جا کر نماز پڑھی۔ یہی حدیث ثوری نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی ہے، انہوں نے کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں، ان میں آٹھ میل کا فاصلہ ہے اور ابن جریج یحییٰ بن سعید سے روایت کرتے ہیں، اس میں یہ الفاظ ہیں، میں نے کہا: یہ کونسی گھڑی ہوتی ہے؟ فرمایا: رات کا تہائی حصہ یا چوتھائی۔ یحییٰ بن سعید نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کئی میل چلتے، پھر اترتے اور نماز پڑھتے۔ دوسری جگہ نافع سے روایت ہے کہ وہ چوتھائی رات تک چلتے، پھر اتر کر نماز پڑھتے۔