السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الجمع بين الصلاتين في السفر باب: سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5528
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا قُتَيْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ بِالرِّيِّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ فَيُصَلِّيَهُمَا جَمِيعًا، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ ". تَفَرَّدَ بِهِ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ يَزِيدَ.حافظ ثناء اللہ
ابو طفیل، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ غزوہ تبوک میں تھے۔ جب آپ ﷺ سورج کے ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کر دیتے، یہاں تک کہ اس کو عصر کے ساتھ جمع فرماتے اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو ظہر و عصر کو اکٹھا ہی پڑھ لیتے، پھر روانہ ہوتے اور جب مغرب سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو مؤخر کر لیتے اور عشاء کے ساتھ پڑھ لیتے۔ جب مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاء کو مغرب کے ساتھ جلدی پڑھ لیتے۔