السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الجمع بين الصلاتين في السفر باب: سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ وَهُوَ بِمَكَّةَ وَهِيَ بِالْمَدِينَةِ، فَأَقْبَلَ فَسَارَ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَبَدَتِ النُّجُومُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ كَانَ يَصْحَبُهُ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَسَارَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ: الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فِي سَفَرٍ جَمَعَ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ ". فَسَارَ حَتَّى إِذْ غَابَ الشَّفَقُ جَمَعَ بَيْنَهُمَا، وَسَارَ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا ". وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ بَعْدَ ذَهَابِ الشَّفَقِ، حَتَّى ذَهَبَ هَوَى مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَوْ حَزِبَهُ أَمْرٌ ". وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، فَذَكَرَ أَنَّهُ سَارَ قَرِيبًا مِنْ رُبْعِ اللَّيْلِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى.(الف) نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہیں صفیہ بنت ابی عبید کی مدد کے لیے بلایا گیا، وہ مکہ میں تھے اور وہ مدینہ میں تھیں، وہ سورج کے غروب ہونے اور ستاروں کے ظاہر ہونے کے بعد روانہ ہوئے۔ ایک شخص نے، جو ان کے ساتھ تھا، کہا: نماز! نماز! سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما چلتے رہے۔ سالم نے کہہ دیا: نماز! تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی سفر درپیش ہوتا تو ان دو نمازوں کو جمع کر لیتے تھے۔“ پھر وہ چلے اور شفق کے غائب ہونے کے بعد ان دونوں کو جمع کر لیا اور مکہ اور مدینہ کے درمیان تین دن چلتے رہے۔
(ب) موسیٰ بن عقبہ، نافع سے نقل فرماتے ہیں، حدیث کے آخر میں ہے کہ وہ غروبِ شفق تک مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ رات کا حصہ گزر جاتا، پھر وہ اترتے اور مغرب و عشا کی نماز پڑھی اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ بھی ایسا کر لیتے تھے، جب آپ ﷺ کو سفر کی جلدی ہوتی یا کوئی سنگین معاملہ ہوتا۔“
(ج) یحییٰ بن سعید انصاری، نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رات کا چوتھائی حصہ ختم ہو جاتا تو وہ اترتے اور نماز پڑھتے۔