السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقصر أبدا ما لم يجمع مكثا باب: اس شخص کا قول کہ جب تک ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے ہمیشہ قصر کرتا رہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ أَبِي وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ الزُّهْرِيِّ عَامَ أَدْرَجَ، فَوَقَعَ الْوَجَعُ بِالشَّامِ، فَأَقَمْنَا بِالسَّرْغِ خَمْسِينَ لَيْلَةً، وَدَخَلَ عَلَيْنَا رَمَضَانُ، فَصَامَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، وَأَفْطَرَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَأَبَى أَنْ يَصُومَ، فَقُلْتُ لِسَعْدٍ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتَ بَدْرًا، وَالْمِسْوَرُ يَصُومُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَنْتَ تُفْطِرُ؟ قَالَ سَعْدٌ: " إِنِّي أَنَا أَفْقَهُ مِنْهُمْ ".عبد الرحمن بن مسور بن مخرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اپنے والد، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور عبد الرحمن بن اسود بن عبد یغوث الزہری کے ساتھ اذرح کے سال نکلا تو شام میں وبا واقع ہو گئی، ہم نے سرغ نامی جگہ پر پچاس راتیں قیام کیا، رمضان شروع ہو گیا تو مسور رضی اللہ عنہ اور عبد الرحمن بن اسود نے روزہ رکھ لیا اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور میرے والد نے افطار کر لیا، میں نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو اسحاق! آپ تو نبی ﷺ کے صحابی ہیں اور بدر میں شریک ہوئے، مسور اور عبد الرحمن روزے سے ہیں اور آپ نے نہیں رکھا، تو سعد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”میں ان سے زیادہ جانتا ہوں۔“