السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقصر أبدا ما لم يجمع مكثا باب: اس شخص کا قول کہ جب تک ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے ہمیشہ قصر کرتا رہے
حدیث نمبر: 5476
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: " أُرِيحَ عَلَيْنَا الثَّلْجُ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فِي غَزَاةٍ ". قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " وَكُنَّا نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ برف نے ہمیں گھیر لیا ”اور ہم آذربائیجان میں تھے“ ہم چھ مہینے تک ایک غزوہ میں رہے اور ہم دو دو رکعات نماز پڑھتے رہے۔