السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقصر أبدا ما لم يجمع مكثا باب: اس شخص کا قول کہ جب تک ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرے ہمیشہ قصر کرتا رہے
حدیث نمبر: 5474
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنْ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَأَقَامَ بِهَا بِضْعَ عَشْرَةَ " فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ ".حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ مل کر غزوہ تبوک کیا۔ آپ ﷺ نے وہاں دس سے کچھ زیادہ قیام کیا اور آپ ﷺ نے واپس آنے تک دو رکعات سے زیادہ نماز ادا نہیں کی۔