السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: النهي عن الاستنجاء باليمين باب: دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الصَّيْدَلَانِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّا نَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ؟ قَالَ: أَجَلْ، إِنَّهُ نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ، وَأَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَنَهَانَا عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ، وَقَالَ: " لَا يَسْتَنْجِ أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو مشرکوں نے کہا: ”بلاشبہ ہم تمہارے ساتھی (نبی ﷺ) کو دیکھتے ہیں کہ وہ تمہیں قضائے حاجت کے لیے بیٹھنے کا طریقہ بھی سکھاتا ہے!!“ انھوں نے کہا: جی ہاں، یقیناً آپ نے ہم کو منع کیا ہے کہ ہم میں سے کوئی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہم کو گوبر اور ہڈیوں سے منع کیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم سے کوئی تین پتھروں سے کم میں بھی استنجا نہ کرے۔“