السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: السفر الذي لا تقصر في مثله الصلاة باب: اس سفر کا بیان جس میں نماز قصر نہیں کی جاتی
حدیث نمبر: 5400
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، أنبأ شُبَيْلٌ الضُّبَعِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: " أَقْصُرُ إِلَى الْأُبُلَّةِ؟ " قَالَ: أَتَجِيءُ مِنْ يَوْمِكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: لَا تُقْصِرْ ".حافظ ثناء اللہ
ابو حبرہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے سوال کیا: کیا میں ابلہ کے سفر میں قصر کروں؟ فرمایا: کیا تو ایک دن میں واپس آجاتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، فرمایا: پھر قصر نہ کر۔