السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما ورد في الاستنجاء بالتراب باب: مٹی سے استنجاء کرنے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْبَرَازَ فَلْيُكْرِمْ قِبْلَةَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَا يَسْتَقْبِلْهَا وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا، ثُمَّ لِيَسْتَطِبْ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ بِثَلَاثَةِ أَعْوَادْ أَوْ ثَلَاثِ حَثَيَاتٍ مِنْ تُرَابٍ، ثُمَّ لِيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْرَجَ عَنَى مَا يُؤْذِينِي، وَأَمْسَكَ عَلَيَّ مَا يَنْفَعُنِي ". هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، وَوَكِيعٌ، وَغَيْرُهُمْ، عَنْ زَمْعَةَ. وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُضَرِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، عَنْ زَمْعَةَ. وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَلَا يَصِحُّ وَصْلُهُ وَلَا رَفْعُهُ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ: أَكَانَ زَمْعَةُ يَرْفَعُهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". فَسَأَلْتُ سَلَمَةَ عَنْهُ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ، يَعْنِي لَمْ يرْفَعْهُ.سلمہ بن وهرام کہتے ہیں: میں نے طاؤس رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کو آئے تو وہ اللہ کے قبلے کی عزت کرے، نہ اس کی طرف منہ کرے اور نہ ہی اس کی طرف پیٹھ، پھر تین پتھر یا تین لکڑیاں یا مٹی کے تین لپوں کے ساتھ استنجا کرے، پھر کہے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي مَا يُؤْذِينِي وَأَمْسَكَ عَلَيَّ مَا يَنْفَعُنِي» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھ سے تکلیف دہ چیز کو نکال دیا اور نفع والی چیز کو روک لیا۔““
احمد بن حسن مضری، جس نے اسے ابو عاصم کے واسطے سے زمعہ سے روایت کیا ہے، کذاب اور متروک ہے۔ اس روایت کا (ابن عباس رضی اللہ عنہما تک) متصل ہونا اور نبی ﷺ تک مرفوع ہونا صحیح نہیں۔