حدیث نمبر: 5331
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيُّ سَكَنَ الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ قَالَ: خَرَجْتُ فِي سَفَرٍ، وَمَعَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ فَقُلْنَا لَهُ: أُمَّنَا، قَالَ: لَسْتُ بِفَاعِلٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ وَأَتَمَّ الصَّلَاةَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنْ نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ

ابو علی ہمدانی رحمہ اللہ جو سکندریہ میں رہتے تھے فرماتے ہیں: میں ایک مرتبہ سفر میں نکلا، میرے ساتھ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ہم نے ان سے کہا: ہماری امامت کراؤ۔ فرمایا: میں امامت کرانے والا نہیں ہوں۔ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ: ”جس نے لوگوں کی امامت کی اور درست وقت میں نماز مکمل کی تو اس کے لیے اور ان کے لیے اجر ہے، جس نے اس میں کچھ کمی کی تو اس پر وبال ہے لیکن ان مقتدیوں پر نہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5331
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن حبان 2221»