السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام الراتب أولى من الزائر باب: مقررہ امام آنے والے (مہمان) سے زیادہ امامت کا حق دار ہے
حدیث نمبر: 5326
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ هُزَيْلَ بْنَ شُرَحْبِيلَ قَالَ: " جَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِلَى مَسْجِدِنَا فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمْ، قَالَ: " يَتَقَدَّمُ إِمَامُكُمْ "، قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّ إِمَامَنَا لَيْسَ هَهُنَا، قَالَ: " يَتَقَدَّمُ رَجُلٌ مِنْكُمْ "، فَقَامَ عَلَى دُكَّانٍ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَنَهَاهُ عَبْدُ اللهِ عَنْ ذَلِكَ ". وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي مَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
ہزیل بن شرحبیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے تو اقامت کہہ دی گئی۔ ہم نے کہا: آگے بڑھو جماعت کراؤ۔ انہوں نے فرمایا: تمہارا امام آگے بڑھ کر جماعت کروائے۔ ہم نے کہا: ہمارا امام یہاں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا: کوئی اور آگے بڑھے، تو وہ مسجد کے چبوترے پر کھڑا ہو گیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا۔