السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الصلاة بغير أمر الوالي باب: حاکم کے حکم کے بغیر نماز پڑھانا
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَحَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَحَمْزَةَ ابْنَيِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُخْبِرُ أَنَّهُ سَارَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَلَمَّا دَنَا الْفَجْرُ عَدَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَعَدَلْتُ مَعَهُ، فَأَنَاخَ فَتَبَرَّزَ، وَمَعِي إِدَاوَةٌ فِيهَا مَاءٌ، فَلَمَّا جَاءَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَنِي فَسَكَبْتُ عَلَى يَدِهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ فِي جُبَّتِهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَتَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ مَعَهُ الْمُغِيرَةُ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَقَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يُصَلِّي لَهُمْ، فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ، فَفَزِعَ النَّاسُ لِذَلِكَ وَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ لِلنَّاسِ: " قَدْ أَصَبْتُمْ أَوْ أَحْسَنْتُمْ ". كَذَا قَالَا فِي إِسْنَادِهِ عَنْ عَبَّادٍ عَنْ عُرْوَةَ وَحَمْزَةَ.سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ غزوہ تبوک میں نبی ﷺ کے ساتھ چلے، جب فجر قریب ہوئی تو آپ ﷺ ایک طرف کو ہوئے، میں بھی ایک جانب ہو گیا۔ آپ ﷺ نے اپنی سواری کو بٹھایا اور آپ ﷺ چلے، میرے پاس پانی کا ایک لوٹا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ آئے تو مجھے حکم دیا، میں نے لوٹے سے آپ ﷺ کے ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر آپ ﷺ نے اپنا چہرہ دھویا۔ پھر آپ ﷺ اپنے بازو جبہ سے نکال رہے تھے، جب جبہ کی آستینیں تنگ ہوئیں تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکال لیے اور ان کو کہنیوں تک دھویا۔ پھر سر اور موزوں کا مسح کیا اور وضو کیا۔ پھر متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ کے ساتھ مغیرہ (رضی اللہ عنہ) بھی تھے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز کی حالت میں پایا اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو رسول اللہ ﷺ کے آنے سے قبل فجر کی ایک رکعت پڑھا دی تھی۔ نبی ﷺ نے آ کر دوسری رکعت میں لوگوں کے ساتھ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بنائی۔ جب سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کی۔ لوگ اس وجہ سے گھبرا گئے اور اکثر نے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا۔ جب نبی ﷺ نے نماز مکمل کی تو فرمایا: ”تم درستگی کو پہنچ گئے“ یا فرمایا: ”تم نے درست کام کیا۔“